Articles from: 2016
Materia Medica Keynotes – ALUMINA
Homeopathic Materia Medica Keynotes – Aconitum Napellus
Materia Medica – Homeopathic Medicines List
ہومیوپیتھک دواؤں میں الکحل کا استعمال – حقائق کیا ہیں (حسین قیصرانی)۔
لاہور کے ایک معتبر عالم اور صاحبِ طرز مصنف نے سوال کیا کہ کیا ہومیوپیتھک اَدویات الکحل (شراب) سے بنتی ہیں۔ اُن کا میرے دل میں بہت احترام ہے سو میں نے اُن کی خدمت میں، اس ضمن میں، جو وضاحت کی وہ ذیل میں پیش کی جا رہی ہے لیکن اُس سے پہلے ایک گزارش۔
میں ہومیوپیتھی کا ایک ادنیٰ طالبعلم ہوں۔ دینی معاملات میں جذبہ اور جذبات تو بے پناہ ہیں لیکن علم محض واجبی سا ہی ہے۔ چونکہ میرے حلقۂ احباب، قارئین اور کلائنٹس میں بڑے علمی مرتبے کے اصحاب و خواتین کی کمی نہیں سو اُن سے التماس ہے کہ اگر اِس موضوع پر مختلف رائے رکھتے ہوں تو کمنٹ باکس میں اپنے رُشحات لکھ کر راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ!۔
شکریہ محترم عالی مقام! آپ ایک سعید روح ہیں؛ چونکہ یہ باتیں یہاں بالعموم نیٹ پر موجود رہنی read more [...] نیند کی کمی، بے خوابی Insomnia ، بے سکون نیند کا ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
صحت مند جسم اور ذہن کے لیے نیند کی اہمیت ہم سب پر بخوبی عیاں ہے۔ کبھی کبھار نیند کا اُچاٹ ہو جانا کوئی عجیب یا فکر کی بات نہیں مگر اگر معاملہ دنوں کی بجائے ہفتوں پر محیط ہو جائے تو یہ مسئلہ اُتنی ہی گہری توجہ کا متقاضی ہے کہ جتنی کوئی بھی اَور خطرناک بیماری۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن WHO کی تحقیق 2016 کے مطابق ایک چھوٹا بچہ چوبیس گھنٹوں میں تقریباً دس بارہ گھنٹے سوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ عرصہ کم ہوتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ پُختہ عمر میں جا کر نیند چھ سات گھنٹے رہ جاتی ہے۔ پھر جب بڑھاپا شروع ہوتا ہے تو نیند کا عرصہ بڑھنے لگتا ہے اور آخر کار زیادہ عمر میں پہنچ کر، بچوں کی طرح دس بارہ گھنٹے ہو جاتی ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ بے خوابی یا نیند کا نہ آنا بجائے خود کوئی بیماری read more [...] گردے، مثانےاور پیشاب کی تکالیف کا ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
پیٹ کے دائیں بائیں دو گردے، مثانہ اور دو نالیاں ہیں جو گردوں سے مثانہ میں کھلتی ہیں اور پیشاب خارج کرنے کی نالی، یہ نظامِ بول (Uraniry System / Renal System) کے اعضاء ہیں۔
ہاضمہ کے دوران آبی مواد گُردوں کے طرف آتا ہے۔ گُردے اسے دو نالیوں (یوریٹرز) کے ذریعے مثانہ میں پہنچاتے ہیں جہاں سے پیشاب کی نالی کے ذریعے پیشاب خارج ہو جاتا ہے۔
آبی مواد میں بھاری مواد شامل ہو تو وہ گردے میں جمع ہو جاتا ہے جو پتھری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گردے کی پتھری چھوٹی بھی ہو سکتی ہے اور بڑی بھی۔ یہ مواد ریگ کی شکل میں بھی جمع ہو سکتا ہے۔ گردوں سے یہ پتھری یا مواد نالیوں اور مثانہ میں بھی آ سکتا ہے۔
کئی دیگر امراض اور اعضاء کی خرابیاں گردوں کو مثاثر کرتی ہیں ۔۔۔ مثلاً دل، جگر اور معدہ وغیرہ کے امراض۔ read more [...] ہومیوپیتھی اور ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی ضرورت کیوں؟ حسین قیصرانی
ہومیوپیتھی کو دنیا بھر میں دوسرا مقبول ترین طریقہ علاج ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اِنسانی صحت کے تمام مسائل کے لئے واحد اور نرم اثرات کی حامل دوائی کا انتخا ب ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی ایسی اہم ترین خوبی ہے کہ جو اِسے بجا طور پر ہر اِنسان - چاہے وہ بچہ ہو، بڑا یا بوڑھا - کےلئے موزوں اور مفید بناتی ہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہر مریض کے مجموعی مزاج، جسمانی اور جذباتی مسائل پر بھرپور توجہ دے کر جب علاج کرتا ہے تو وہ زیادہ مفید اور دیرپا ثابت ہوتا ہے۔
ہومیوپیتھک ادویات پودوں، معدنیات اور مختلف جانداروں سے حاصل کرکے خاص مراحل سے گزاری جاتی ہیں جس سے اُس دوا کی توانائی بطور علاج اِستعمال میں لائی جاتی ہے۔ یہ ادویات مرض کا نہیں بلکہ مریض کا علاج کرتی ہیں سو اِنہیں ہر طرح کی تکالیف read more [...]
Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger 