Salaam,
One good news worth sharing with you. For ……. there had been no instance of bed wetting.
In fact, he gets up around 1 AM to go to the toilet, returns and sleeps again.
So he has started to feel on his sleep about bladder pressure which wakes him up now.
Last 4 weeks have been clean. Especially the last two weeks when he was attending school.

ایک ہفتہ قبل کراچی کی کاروباری فیملی نے اپنی بچی کے علاج کے لئے رابطہ کیا۔ اُن کے خیال میں بچی کی جسامت، وزن اور قد اپنی عمر اور کلاس کے بچوں سے واضح کم اور چھوٹا تھا۔ وہ کافی علاج کروا چکے تھے لیکن اب ہومیوپیتھک دوا استعمال کروانے کے خواہش مند تھے۔ اُن کو سمجھایا گیا کہ بچی کے مجموعی مسائل کو سمجھے بغیر جو بھی علاج ہو گا؛ اولاً تو وہ کوئی فائدہ دے گا ہی نہیں اور اگر کوئی نسخہ، ٹوٹکا اور تُکا کامیاب ہو بھی گیا تو وہ محض وقتی ہو گا۔ ہومیوپیتھک علاج کا یہ ضروری تقاضا ہے کہ ہم بچی کے ہر مسئلے کو ڈسکس کریں، سمجھیں کہ رکاوٹ کہاں ہے اور اُسے دور کیسے کیا جائے۔ بات اُن کی سمجھ میں آ گئی۔
بچی سے بات ہوئی۔ اُس کی پسند نا پسند کا بھی پوچھا گیا۔ والدہ سے کوئی گھنٹہ بھر ڈسکشن
جن اصحاب و خواتین کو یورپ بلکہ خاص طور پر لندن میں کسی کلاسیکل ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ سے اپنا کیس ڈسکس کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے ساتھ پہلی نشست کم از کم ایک گھنٹہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اِس دوران جہاں چائے پانی کا دَور چلتا ہے؛ وہاں مختلف موضوعات پر گپ شپ بھی جاری رہتی ہے۔ لندن میں ایک بہت ہی سینئر گورے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا میں نے یہ معمول دیکھا کہ وہ مریض کو اپائٹمنٹ دیتے وقت مختصر سا انٹرویو کیا کرتا تھا تاکہ مریض کے آنے پر ماحول میں ااپنائیت کا ساماں ہو۔ کئی بار تو یہ بھی دیکھا کہ وہ اپنے مریضوں کے تعلیمی اور علاقائی بیک گراؤنڈ کا بھی پوچھتا ہے۔
کیس لینے کے اِس انداز کو مَیں نے اپنی پریکٹس کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اِس سے جہاں 
دنیا بھر کے نامور ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی کتابیں زیرِ مطالعہ رہی ہیں اور اب بھی رہتی ہیں۔ مطالعہ کرنا بہت ہی اچھی بات ہے لیکن ان کی لکھی ہوئی سب باتیں تسلیم کر لینا ضروری نہیں ہوا کرتا۔ خاص طور پر ایسے میٹریا میڈیکا (Materia Medica) ہم دیکھتے ہیں کہ اہم ادویات کے خواص کئی کئی صفحات میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان طول طویل تحریروں کو پڑھ کر کئی دفعہ تو ذہن اُلجھ جاتا ہے۔ جب معاملہ یہ ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ان کو یاد رکھا جا سکے۔ مثال کے طور پر ایک نامور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی کتاب میں صرف اکونائٹ (Aconite) دوا کا بیان تیس سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ ایسی اہم ادویات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان سب کی تمام علامات یاد رکھنا بھلا کیسے ممکن ہے۔ ہمارے پاکستانی مصنفین، مترجمین یا ڈاکٹرز نے، بالعموم،
Dear Dr. Hussain Kaisrani Sb,
I am writing this to pay my heartfelt and profound appreciation for your treatment regarding fungus issues Which I had been bearing since many years; like nail fungus, cracked and rough skin of feet and fungal infection between the fingers.
You treated my nail fungus in such a way that it is hardly possible to differentiate that specific nail from the others. It's perfectly normal not only in appearance but inside too, and it is growing like the other nails.
My cracked and rough skin is smooth now.
Infection between the fingers which appeared every winter, cured completely and I spent this winter free of this infection.
Before your LIFE treatment i had rough, weak and pale nails with white marks on it. There was no life in them. In fact, You saved them.
Your special concern, personal attention and professional services have played a vital role in my recovery.
I must say you solved my issues with a great care and patience since it took time to heal.
You cared from your heart and I trusted! You are great, sweet doctor! Thanks to Allah! And thank you doctor and finally thanks to Homeopathy!
(Hussain Kaisrani - Homeopathic Consultant
محترمہ "ف" کا رابطہ بسلسلہ ہومیوپیتھک علاج مئی 2014 میں ہوا کہ جب پاکستان میں آن لائن علاج کا آغاز کئے مجھے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے۔ انہیں (PCOS / PCOD)، یوٹرس (Uterus) میں فیبرائیڈ (fibroid) اور سِسٹ (Cysts) کی شکایت تھی اور اُس کے لئے مروجہ یعنی ایلوپیتھک علاج کے ہر ممکن تقاضے پورے کرنے کے باوجود اور خاطر خواہ فائدہ نہ ہو پانے کی وجہ سے مایوس ہو چکی تھیں۔ میری ایک کلائنٹ کے پُر زور اصرار پر نیم دِلی کے ساتھ علاج شروع کیا۔ پروردگار نے اپنا خاص کرم فرمایا اور چار ماہ بعد جب وہ الٹرا ساؤنڈ کے لئے تشریف لے گئیں تو اُن کی ڈاکٹر صاحبہ حیران رہ گئیں کہ سب کچھ کلئیر کیسے ہو گیا۔ یہ بات صرف ڈاکٹر صاحبہ کے لئے ہی نہیں؛ خود اِن کے لئے بھی ناقابلِ یقین تھی۔
اُس کے بعد انہوں نے اپنے اور بچوں کے
سعدیہ عاطف صاحبہ ماہرِ نفسیات اور آٹزم کی تکلیف میں مبتلا -- آٹسٹک -- بچوں کی تربیت اور تحقیق میں مصروف ہیں۔ ہمارے اچھے باہمی مراسم ہیں اور اُن سے آٹزم کے حوالہ سے چند نشستیں بھی ہو چکی ہیں۔ اُن کی یہ تحریر (اگرچہ ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے حوالہ سے نہیں ہے تاہم) اِس موضوع پر معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔ "صحافی" کے شکریہ کے ساتھ شئیر کی جاتی ہے۔
آئٹزم (Autism) خود میں مگن رہنے کی کیفیت کا نام ہے، یہ دنیا کے ہر خطے، رنگ ونسل اور طبقے میں بلا امتیاز پایا جانے والا مرض ہے، اس کی علامتیں پیدائش کے ابتدائی تین سال کے دوران کسی بھی وقت ظاہر ہوسکتی ہیں، کچھ بچے ابتدائی دو سال کے دوران بولنے اور سیکھنے کے عمل سے گزرتے ہیں پھر اچانک تین سال کی عمر تک پہنچنے تک ان صلاحیتوں کو
Dear Dr. Hussain Kaisrani Sb
I am writing this to pay my heartfelt and profound appreciation for your treatment regarding fungus issues which I had been bearing since many years; like nail fungus, cracked and rough skin of feet and fungal infection between the fingers.
You treated my nail fungus in such a way that it is hardly possible to differentiate that specific nail from the others. It's perfectly normal not only in appearance but inside too, and it is growing like the other nails.
My cracked and rough skin is smooth now.
Infection between the fingers which appeared every winter, cured completely and I spent this winter free of this infection.
Before your LIFE treatment I had rough, weak and pale nails with white marks on it. There was no life in them. In fact, You saved them.
Your special concern, personal attention and professional services have played a vital role in my recovery.
I must say you solved my issues with a great care and patience since it took time to heal.
You cared from your heart and I trusted! You are great, sweet doctor!
Thanks to Allah! And thank you doctor and finally thanks to Homeopathy!
OLD PHOTOS
Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger 