جن اصحاب و خواتین کو یورپ بلکہ خاص طور پر لندن میں کسی کلاسیکل ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ سے اپنا کیس ڈسکس کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے ساتھ پہلی نشست کم از کم ایک گھنٹہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اِس دوران جہاں چائے پانی کا دَور چلتا ہے؛ وہاں مختلف موضوعات پر گپ شپ بھی جاری رہتی ہے۔ لندن میں ایک بہت ہی سینئر گورے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا میں نے یہ معمول دیکھا کہ وہ مریض کو اپائٹمنٹ دیتے وقت مختصر سا انٹرویو کیا کرتا تھا تاکہ مریض کے آنے پر ماحول میں ااپنائیت کا ساماں ہو۔ کئی بار تو یہ بھی دیکھا کہ وہ اپنے مریضوں کے تعلیمی اور علاقائی بیک گراؤنڈ کا بھی پوچھتا ہے۔
کیس لینے کے اِس انداز کو مَیں نے اپنی پریکٹس کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اِس سے جہاں read more [...] Homeopathy in Urdu
ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ: ایک دلچسپ تجربہ – حسین قیصرانی
جن اصحاب و خواتین کو یورپ بلکہ خاص طور پر لندن میں کسی کلاسیکل ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ سے اپنا کیس ڈسکس کرنے کا اتفاق ہوا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے ساتھ پہلی نشست کم از کم ایک گھنٹہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ اِس دوران جہاں چائے پانی کا دَور چلتا ہے؛ وہاں مختلف موضوعات پر گپ شپ بھی جاری رہتی ہے۔ لندن میں ایک بہت ہی سینئر گورے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کا میں نے یہ معمول دیکھا کہ وہ مریض کو اپائٹمنٹ دیتے وقت مختصر سا انٹرویو کیا کرتا تھا تاکہ مریض کے آنے پر ماحول میں ااپنائیت کا ساماں ہو۔ کئی بار تو یہ بھی دیکھا کہ وہ اپنے مریضوں کے تعلیمی اور علاقائی بیک گراؤنڈ کا بھی پوچھتا ہے۔
کیس لینے کے اِس انداز کو مَیں نے اپنی پریکٹس کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ اِس سے جہاں read more [...] ہومیوپیتھک دوا کے انتخاب کا طریقہ – حسین قیصرانی
دنیا بھر کے نامور ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی کتابیں زیرِ مطالعہ رہی ہیں اور اب بھی رہتی ہیں۔ مطالعہ کرنا بہت ہی اچھی بات ہے لیکن ان کی لکھی ہوئی سب باتیں تسلیم کر لینا ضروری نہیں ہوا کرتا۔ خاص طور پر ایسے میٹریا میڈیکا (Materia Medica) ہم دیکھتے ہیں کہ اہم ادویات کے خواص کئی کئی صفحات میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان طول طویل تحریروں کو پڑھ کر کئی دفعہ تو ذہن اُلجھ جاتا ہے۔ جب معاملہ یہ ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ان کو یاد رکھا جا سکے۔ مثال کے طور پر ایک نامور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی کتاب میں صرف اکونائٹ (Aconite) دوا کا بیان تیس سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ ایسی اہم ادویات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان سب کی تمام علامات یاد رکھنا بھلا کیسے ممکن ہے۔ ہمارے پاکستانی مصنفین، مترجمین یا ڈاکٹرز نے، بالعموم، read more [...] کلکیریا کارب: حسد اور ہومیوپیتھی اردو ترجمہ (جارج وتھالکس)۔
مستقل ذہنی پریشانی، ڈیپریشن، بے سکونی، نیند اور بھوک کی کمی – ہومیوپیتھک دوا، علاج اور فیڈبیک- حسین قیصرانی
محترمہ "ف" کا رابطہ بسلسلہ ہومیوپیتھک علاج مئی 2014 میں ہوا کہ جب پاکستان میں آن لائن علاج کا آغاز کئے مجھے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے۔ انہیں (PCOS / PCOD)، یوٹرس (Uterus) میں فیبرائیڈ (fibroid) اور سِسٹ (Cysts) کی شکایت تھی اور اُس کے لئے مروجہ یعنی ایلوپیتھک علاج کے ہر ممکن تقاضے پورے کرنے کے باوجود اور خاطر خواہ فائدہ نہ ہو پانے کی وجہ سے مایوس ہو چکی تھیں۔ میری ایک کلائنٹ کے پُر زور اصرار پر نیم دِلی کے ساتھ علاج شروع کیا۔ پروردگار نے اپنا خاص کرم فرمایا اور چار ماہ بعد جب وہ الٹرا ساؤنڈ کے لئے تشریف لے گئیں تو اُن کی ڈاکٹر صاحبہ حیران رہ گئیں کہ سب کچھ کلئیر کیسے ہو گیا۔ یہ بات صرف ڈاکٹر صاحبہ کے لئے ہی نہیں؛ خود اِن کے لئے بھی ناقابلِ یقین تھی۔
اُس کے بعد انہوں نے اپنے اور بچوں کے read more [...] محبت کی ناکامی، بے وفائی اور دھوکے کا دکھ – ہومیوپیتھک علاج – فیڈبیک (حسین قیصرانی)۔
یہ کہانی ہے یورپی معاشرے میں پلنے، بسنے اور زندگی کے اَن گنت مسائل سے دوچار ہونے والی ایک نوجوان لڑکی کی؛ اوائل عمر میں ہی، جس کے ماں باپ میں علیحدگی ہوگئی۔ وہ جس سرپرست کے زیرِ نگرانی پرورش پانے پر مجبور ہوئی؛ اُس نے اُسے ہر ممکن "ظلم و زیادتی" کا نشانہ سالہا سال بنایا۔ کالج میں جس کلاس فیلو سے عشق ہوا؛ اُس نے اِن کی بہترین دوست سے شادی رَچا لی۔ زندگی کے ہر اہم موڑ پر دھکے، ڈھکوسلے اور دھوکے ملے۔
اب جبکہ وہ ایک ریسرچ پراجیکٹ پر دو سال سے مصروف ہے تو اُسے اپنے سے دُگنی عمر کے سپروائزر سے عشق ہوا، وعدے وعید ہوئے، اِنہوں نے اپنی محنت سے کمایا ہوا سارا سرمایہ اُن پر لُٹا دیا کہ آخرکار سب کچھ اُسی کا ہی تو ہے۔ کوئی تین ماہ پہلے پتہ چلا کہ وہ کسی اَور کے ساتھ پینگیں بڑھا read more [...] ہومیوپیتھک دوا (Arsenicum Album) آرسنیک البم- جارج وتھالکس
پلسٹیلا مزاج کے بچے کیسے ہوتے ہیں؟
ایکونائٹ: جارج وتھالکس کی کتاب “حسد اور ہومیوپیتھی” (ترجمہ، ڈاکٹر مسعود یحییٰ، ڈاکٹر بنارس خان اعوان) سے اقتباس
رعشہ – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی ،Huntington’s Chorea, Chorea
کانپنا، عجیب و غریب جسمانی حرکت، بے ڈھب چال، ہاتھ، پاؤں اور چہرہ کے عضلات کا بغیر ارادہ پھڑکنے، بعض اوقات ناچنے کی سی جسمانی حرکت کو رعشہ یا کوریا (CHOREA) کا مرض سمجھا جاتا ہے۔ یہ علامات بچوں میں، پانچ چھ سال کی عمر کے بعد نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں۔ ابتداء میں ایک بازو یا ایک ٹانگ اور بعض اوقات دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ بچے کی حرکت میں ایک جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے جو دیکھنے والوں کو بھی نظر آ جاتا ہے۔
اُٹھنے، بیٹھنے میں، کوئی چیز اٹھانے اور رکھنے میں، روٹی کا نوالہ توڑنے، اٹھانے اور کھانے میں، بولنے میں، لکھنے میں بچہ کے بیرونی اعضاء میں بے چینی رہتی ہے جو اس کی حرکات سے نظر آتی ہے۔ بچہ ایک حالت میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا، ہر وقت پوزیشن تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اگر بیٹھا یا read more [...] انٹرویو، ٹیسٹ اور امتحان کا ڈر – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی
ایک محترمہ نے فون پر رابطہ فرمایا کہ اُن کے ادارہ میں نہایت اہم پوسٹ پر ترقی دینے کے لئے سٹاف سے انٹرویو، پریزینٹیشن اور آبزرویشن کا سلسلہ جاری ہے۔ تین دن بعد میں نے اپنی پریزنٹیشن دینی ہے۔ شروع میں، مَیں بہت پُرجوش تھی کیونکہ ہر کسی کا خیال ہے کہ یہ پوسٹ جیسے میرے ہی لئے مختص ہو چکی ہے۔ مگر جوں جوں دن قریب آتے جا رہے ہیں میری ہمت ساتھ چھوڑتی جا رہی ہے۔ مجھ سے یہ تین دن گزارنا مشکل ہو رہے ہیں۔ بہت زیادہ امکان ہے کہ میں شاید اُس دن جا ہی نہ پاؤں۔
فکرمندی اِس بات کی نہیں ہے کہ مجھے ترقی دی جائے گی یا نہیں بلکہ ڈر اور خوف یہ سوار ہو گیا ہے کہ ہیڈ آفس کی ٹیم میری حالت دیکھ کر جاب سے ہی نکالنے کا فیصلہ کر لے گی۔ اِس لئے میں تقریباً فیصلہ کر چکی ہوں کہ میں کام پر نہیں جاؤں گی۔
تفصیلی read more [...]
Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger 