showcase demo picture

Homeopathic Awareness

ہومیوپیتھک دوا کے انتخاب اور علاج میں مزاج کی اہمیت – حسین قیصرانی

انڈہ ایک یا دو؟ ————— ایک آدمی فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھر واپس آیا۔ ناشتے کی میز پر بیوی نے اُس سے پوچھا: "تم نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ اتنا عرصہ گھر سے باہر رہے اور ڈھیر سارا پیسہ خرچ کیا؛ اِس فلسفہ کا کوئی فائدہ تو ہمیں بتاو"۔ شوہر نے سامنے رکھے انڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "فلسفے کے ذریعے مَیں اِس انڈے کو ایک کی بجائے دو ثابت کر سکتا ہوں"۔ بیوی نے انڈے کو منہ میں رکھتے ہوئے کہا: "جو دوسرا انڈہ تم اپنے فلسفے سے ثابت کرو گے وہ خود کھا لینا"۔ ————— اِس لطیفے میں ایک مزاج "شوہر" کا ہے اور دوسرا بالکل مختلف مزاج "بیوی" کا۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں مزاج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ فلسفی مزاج کا اِنسان اگر کسی مرض میں مُبتلا ہو گا تو اُس کی اہم وجہ اُس کا read more [...]

سر درد، میگرین، وجوہات، علاج اور ہومیوپیتھک ادویات (حسین قیصرانی)۔

سر درد اِتنا عام ہے کہ اس کی دوا تجویز کرنا بذاتِ خود دردِ سر ہے۔ یہ سر ہی تو ہے جس میں مغز ہے جو تمام احساسات کا مرکز و محور ہے؛ اِس لئے سر درد کو معمولی یا عام مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ نظامِ ہاضمہ میں خرابی ہو تو سر درد۔ جگر میں خرابی ہو تو سر درد۔ نزلہ زکام یا بخار ہو تو سر درد ۔ دل، گُردے، نسوانی اعضاء، غرضیکہ خرابی کہیں بھی ہو تو دردِ سر گویا سر چڑھ کر بولتا ہے۔ سر درد کا سبب معلو م نہ ہو تو علاج کیلئے ہومیوپیتھک دوا تجویز کرنا ناممکن ہے۔ مجھے فیس بک اور موبائل پر پیغامات موصول ہوتے ہیں یا مختلف محفلوں، ملاقاتوں یا سیمینارز میں میگرین یا سر درد کا علاج اور ہومیوپیتھی دوائی اکثر و بیشتر پوچھی جاتی ہے۔ ہومیوپیتھک طریقۂ علاج میں بغیر تفصیلی کیس read more [...]

Levels of Health Theory With the Example of a Case of Juvenile Rheumatoid Arthritis

Dmitri Chabanov, Dionysis Tsintzas, George Vithoulkas Objective. Contemporary medicine is in great need of a new patient health group classification that could be the basis for in-depth pathology assessments, disease development and prognosis, and the possibility of healing, as well as for possible complications of organism reactions to treatment processes. This classification is possible if founded on holistic approaches at the level of health assessment from the point of view of organism reactivity and resistance. Such a classification, assigning 12 levels and 4 health groups, exists in classical homeopathy. Methods. A new method for determining the group and level of health is shown in a case of juvenile rheumatoid arthritis of a generalized form in an 11-year-old girl, treated with classical homeopathy. The follow-up of the case is 18 years. Conclusion. The method allows the physician to assess the organism dynamics as a whole during the pathology development. Keywords juvenile idiopathic arthritis, homeopathy, levels of health theory In medicine, various classifications of health exist. However, none of these is capable of truly assessing both the depth and severity read more [...]

بواسیر، پائلز، ہیمورائڈز (VARICOSE VEINS / PILES / HEMORRHOIDS) – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی

بواسیر کا مرض بہت عام ہے اور یہ بے حد اذیت والی تکلیف ہے۔ باہر کی طرف یا مقعد (Anus) کے اندر یا دونوں مقام پر مسے بن جاتے ہیں۔ یہ مسے کوئی نئی ساخت نہیں ہوتے بلکہ مریض کی اپنی ہی وریدوں میں اُس مقام پر غلیظ خون جمع ہو جاتا ہے جو مسوں / موہکوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بواسیر / پائلز خونی بھی ہوتی ہے اور بادی یا اندھی بھی۔ جس میں خون نہیں نکلتا؛ عام زبان میں اُسے بادی بواسیر کہتے ہیں۔ بادی بواسیر میں مسے سوج جاتے ہیں اور اُن میں شدید جلن اور بے پناہ درد کی وجہ سے مریض کے لئے چلنا، بیٹھنا اور بعض مریضوں میں لیٹنا تک بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں۔ مقعد میں مستقل بوجھ کا احساس، چبھن، خارش اور بے آرامی مریض کے دل و دماغ پر بہت اثر کرتی ہے۔ انسان کو کسی حالت میں read more [...]

صحت، بیماری اور علاج – ہومیوپیتھک نقطہ نظر – حسین قیصرانی

کسی انسان کے اندر جب تک کوئی ڈسٹرب کرنے والا اثر نہ ہو تو وہ کبھی کوئی علامات ظاہر نہیں کرے گا۔ اِسے ہم صحت کی زندگی کہیں گے۔ یہ بات تھوڑی مشکل ہے تاہم اِسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھے ہیں یا بستر پر سکون اور خاموشی سے لیٹے ہیں تو آپ کو اپنے بالوں، بازوؤں، پاؤں، آنکھوں، دل اور دماغ وغیرہ کا احساس نہیں ہوگا۔ اب آپ یہ پڑھ رہے ہیں تو آپ کو سوچ کر اور غور کر کے دیکھنا ہو گا کہ اپنے ان اعضاء کو محسوس کر رہے ہیں یا نہیں؟ ایک صحت مند جسم کے حصے پر آپ توجہ مرکوز اور فوکس کر ہی نہیں سکتے جبکہ غیر صحت مند عضو سے توجہ ہٹا نہیں سکتے۔ وہ متواتر اپنا احساس دلاتا رہے گا۔ جب ہمارے جسم اور ذہن کے تمام کام ٹھیک ہوں گے یعنی قدرتی ترتیب کے ساتھ ہوں گے تو ہمیں ہمارے جسم read more [...]

امتحان، سٹیج، انٹرویو اور پریزینٹیشن کے ڈر، خوف، فوبیا اور تشویش کا کامیاب ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی

ایم فل کی ایک سٹوڈنٹ نے فون پر رابطہ فرمایا۔ انہوں نے تقریباً روتے ہوئے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا: صبح یونیورسٹی میں میری فائنل پریزینٹیشن (Presentation) ہے جس کے لئے میں نے پچھلے تین ماہ دن رات ایک کر دیا۔ میری تیاری ہر طرح سے مکمل ہے اور کل اپنے سپروائزر سے تفصیلی نشست ہوئی۔ مَیں نے اُن سے ایسے تمام نکات پر بات کی کہ جو مجھے واضح نہیں تھے۔ انہوں نے مجھے بڑی وضاحت سے سب کچھ سمجھایا۔ اب یہ حالت ہے کہ مجھے اپنے سوالات تو پوری طرح یاد ہیں مگر سپروائزر نے جو راہنمائی کی؛ اُس کا ایک لفظ بھی ذہن میں نہیں آ رہا۔ میرا دماغ بالکل خالی ہے۔ پریزینٹیشن کا مجھے کچھ یاد ہی نہیں آ رہا۔ میں مستقل کانپ رہی ہوں اور میرا رنگ سفید ہو رہا ہے۔ اچانک بے پناہ سستی اور کمزوری محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ read more [...]

Homeopathic Remedy ALUMINA (ایلومینا) – The Essence of Materia Medica – George Vithoulkas

Alumina (alum.) Alumina is a unique remedy often under-appreciated by beginning prescribers. It is characterized by DELAYED ACTION both internally on the mental plane, and externally on the central and peripheral nervous systems. The idea is SLOWNESS of function followed eventually by PARALYSIS. This is a very slow onset. The patient may not realize that anything is wrong for a long time; she may feel a vague “heaviness” in the legs about which she doesn’t complain until it has developed into locomotor ataxia. The most striking aspect of the mental picture is the great SLOWNESS of mind. She is slow to comprehend things, then slow in figuring out how to proceed to accomplish her task, and slow in its execution. The slowness of mind results in a peculiar kind of confusion which is unique to Alumina. The ideas are very vague, and hazy, like undefined shadows. You may see a patient who has difficulty in swallowing. But when you ask her to describe the trouble, she becomes halting and indecisive. She thinks a long time, tries this word and that, struggling to find the correct word to describe what she is feeling. This difficulty in expressing what is happening is so peculiar to read more [...]

– ہومیوپیتھی علاج کے تقاضے اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی مشکلات – حسین قیصرانی

ڈاکٹر کے مخلص اور ماہرِ فن ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کا سمجھ دار اور تعلیم یافتہ ہونا ہومیوپیتھک علاج کا ایک اہم ترین تقاضا ہے۔ دونوں میں سے اگر ایک بھی اس شرط کو پورا نہیں کرتا تو اچھے نتائج کا حاصل ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اِس کو ذرا وضاحت سے ڈسکس کرتے ہیں۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اگر اپنے فن کا ماہر نہیں ہے اور مریض بھی سمجھدار نہیں ہے تو تکلیف اور مرض کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ اگر معالج کو اپنے کام پر عبور ہے مگر مریض جاہل ہے تو ڈاکٹر کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ پورے خلوص اور محنت کے باوجود مریض کو مکمل شفا حاصل نہ ہو گی۔ اور تیسری صورت میں (کہ جب معالج میں صلاحیتوں کی کمی ہے) تو کوئی تعلیم یافتہ، سمجھدار مریض کسی ایسے ڈاکٹر read more [...]

جسمانی بیماریاں بمقابلہ ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی مسائل – میرا نقطہ نظر (حسین قیصرانی)۔

جب مرض، مریض کے اندر گہرائی تک اثر کر جاتا ہے تو بہت سی جسمانی تکلیفیں اور علامات تو غائب ہو جاتے ہیں مگر ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی علامات اور بیماریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ جب نیند کی مستقل خرابی، بے وجہ غصہ، صحت کے متعلق انگزائٹی، تشویش، ڈپریشن، کینسر کا ڈر، اَن جانا خوف یا موت کا ڈر مسلسل حملہ آور ہونے لگتے ہیں تو نزلہ، زکام، بخار یا سر درد وغیرہ گم ہو جایا کرتے ہیں۔ (خوف ایسے ڈر کو کہتے ہیں جس کی وجہ معلوم ہو؛ چاہے وہ وجہ معقول ہو یا محض وہم۔ حزن اُس ڈر کو کہتے ہیں کہ جو بے وجہ ہو یعنی دل ہے کہ ڈوبا جا رہا ہے۔ بس دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ پروردگار ہم سب کو ڈر اور خوف جیسی نفسیاتی بیماریوں سے محفوظ رکھے)۔ (حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک read more [...]

– مرض کا دب جانا – ڈاکٹر بنارس خان اعوان Suppression

محترم ڈاکٹر حضرات! جنوبی پنجاب کے اس چھوٹے سے شہر دریاخان میں پنجاب سرحد اور سندھ کے دور دراز علاقوں سے اتنی بڑی تعداد میں ڈاکٹر حضرات کا اجتماع بلاشبہ ڈاکٹر جنید عمر اور ڈاکٹر راؤ محمد اخترکی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحبان ما شاء اللہ بڑی محنت، لگن اور دلچسپی سے کئی چھوٹے بڑے سیمینار منعقد کرا چکے ہیں۔ یہ سیمینار ان کے ہومیوپیتھی سے محبت کا ثبوت ہیں جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ان کے اس جذبے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ان کے ساتھ ان کی ساری ٹیم اور ایشین ہومیوپیتھک میڈیکل لیگ پاکستان ونگ کے صدر ڈاکٹر اظہر انتصار بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر A.H.Grimmer نے لکھا ہے۔ ہومیوپیتھی خدا کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے تحفہ ہے۔ ہومیوپیتھی محبت، امن اور خدمت کا استعارہ read more [...]
About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]