آج، اتوار کے دن، پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان سے مخصوص اور نایاب پوٹینسی پر گفتگو ہوئی۔ میرے لئے نایاب پوٹینسی کا معاملہ بالکل ہی نئی بلکہ اچنبھے کی بات تھی۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں جب اور جہاں نایاب پوٹینسی کا تذکرہ ملتا ہے وہاں، بالعموم، صرف دو امور پر بحث ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ اِس کا دستیاب نہ ہونا اور دوسرے اِس کے اِستعمال پر بے یقینی کا اظہار۔ اِن حالات میں اگر کہیں علاج میں پھرپور کامیابی کسی مخصوص پوٹینسی کے ضمن میں پڑھتے بھی ہیں تو وہ معاملہ صرف علمی حد تک محدود رہتا ہے۔ اب جب ڈاکٹر خان نے پوٹینسی کے ضمن میں اپنے گہرے علم اور اُس کی کلینیکل اہمیت کو پیش کیا تو نایاب پوٹینسی پر ہمارا یقین پُختہ کر دیا۔ انہوں نے عظیم ہومیوپیتھس مثلاً ڈاکٹر گورینسی، ڈاکٹر نیش، read more […]
Bedwetting, Anger and Behavior problem – Homeopathic Treatment: A feedback from Online Client
The situation was quite different from usual days. Below is my feedback. Bedwetting: Since the administration of medicine, there have been 4-5 occasions of bed wetting. At 2 occasions, he even woke up to go to the toilet. For the remainder of the month, no bed wetting. Some of the factors involved were: Sufficient time between dinner and going to bed. This gave him opportunity to empty his bladder before retiring to bed. On the other hand, when wets the bed, I note that there is not sufficient time between dinner and going to bed. Secondly, he is too tired and deep in sleep that he couldn’t get up. He also told me that sometimes he just let pass the urine because he feels that it will happen before he could reach toilet. I already discussed with him this issue and tried to explain. Overall Behavior: He had a very good month. Most of the time, it was school holidays. With guests around, he enjoyed to its full. Most of the times, he was in good mode. Rarely showed signs of anger. He also controlled himself quite well when we returned from Saudi Arabia. He cried for some time but generally remained quite composed. School: He is getting quite responsible read more […]
A Solved Case of Exam Anxiety / Test Stress – Homeopathic Treatment and Medicines – Hussain Kaisrani
A Client / Patient, Miss AA, age 25, resident of Pakistan, university student contacted on January 05, 2018 through Phone / WhatsApp for the Homeopathic treatment of her anxiety about exams. She was preparing for exams but was not able to concentrate at all. Fear of failure and anxiety about her parent’s well being were bothering her too much (She is a hostelite nowadays). Along with these matters she was also having issues in several aspects of physical and emotional health. Miss AA had been facing Exam anxiety since her childhood. In her last semester, she had been very disturbed due to vomiting soon after going through the question paper which had long questions. Just after three days, she is appearing in her final papers of a semester. Her Chief Complaints were Examination Stress, anticipation and very poor concentration. However, Homeopathic treatment and remedy selection process requires a thorough case taking. After a detailed interview, following issues came into consideration: PHYSICAL COMPLAINTS Shortness of Breath, Vomiting and Nausea (during exams / tests) Feeling of faintness (during exams / tests) Shivering and trembling Loss of sleep, read more […]
ایک شفایاب کیس پیچیدہ علامات، تشخیص محنت طلب- ڈاکٹر بنارس خان اعوان
(مریض، جنہیں ہم کیضی صاحب کہیں گے)۔ کیضی صاحب خود ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ شادی کو پانچ سال ہو گئے ہیں۔ آپ کے تین بچے ہیں۔ مریض کا انٹرویو تو روز مرہ زبان میں تھا، البتہ میں نے اسے تھوڑا رد و بدل کر کے اور علامات کو ترتیب دے کر بیان کر دیا ہے۔ آئیے، آپ بھی کیس ٹیکنگ میں شامل ہو جائیے۔ ڈاکٹر صاحب میں خود بھی ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہوں، میں نے B.H.M.S. کیا ہوا ہے۔ پریکٹس کرتا ہوں۔ میری نظر میں میرے شہر میں کوئی اچھا ہومیوپیتھ نہیں ہے۔ میں دو سال سے ہومیوپیتھک میگزین میں آپ کے مضمون پڑھ رہا ہوں اور آپ کے پاس آنے کا سوچ رہا تھا۔ میرا مسئلہ بہت گھمبیر اور پیچیدہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کہاں سے شروع کروں۔ میں کئی سال سے اپنا علاج خود کرتا چلا آ رہا ہوں۔ بیشمار دوائیں استعمال کر read more […]
منگنی ختم ہوئی مگر زندگی تو نہیں – آن لائن کلائنٹ کا مسرت اور شکریہ سے بھرپور فیڈبیک (حسین قیصرانی)۔
ایک جوان بچی کے لئے منگنی کا ٹوٹنا کسی الم ناک سانحے سے کم نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب منگنی کا عرصہ کم و بیش تین سال تک محیط رہا ہو۔ عمر کے اِس حصہ میں تین سال کی مدت بہت ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اِسی دوران میں ہی تو معقول رشتے آنے ہوتے ہیں۔ منگنی ٹوٹنے کے بعد کئی قسم کی کہانیاں میں بھی عام ہو جاتی ہیں یا کر دی جاتی ہیں۔ اِن سارے عوامل کی وجہ سے اکثر بچیاں زندگی سے کٹ جاتی ہیں۔ لوگوں سے ملنے بلکہ اپنے کمرے سے باہر نکلنا تک بھی چھوڑ دیتی ہیں۔ اُن کے ذہنی اور نفسیاتی مسائل بڑھ جانے کا اثر اُن کی جسمانی صحت پر بہت برا پڑتا ہے۔ میری اِس کلائنٹ نے بھی یہ سب کچھ سہا، بھگتا اور برداشت کیا۔ اُس کی ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت بہت ہی خراب ہو گئی۔ اُس کی دنیا عملاً اُس کے کمرہ read more […]
ہومیوپیتھک علاج میں کیس ٹیکنگ اور فیڈبیک کی ایک مثال- حسین قیصرانی
ایک کلائنٹ کا تازہ ترین فیڈبیک میرے اس نئے کلائنٹ کو کافی سارے مسائل (جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی) درپیش ہیں۔ میری اُن کے ساتھ ایک ماہ میں یہ تیسری نشست تھی جو بطورِ خاص چُھٹی کے دن (اتوار کو) رکھی۔ تین سے پانچ بجے شام مسلسل دو گھنٹے کیس ٹیکنگ ہوئی۔ اتنی سوچ بچار اور ڈسکشن کے بعد ایک ہومیوپیتھک دوا منتخب کی اور اُس کی دو خوراکیں اُس رات کھانے کی ہدایت کے ساتھ رخصت کیا۔ آج اُن کا فیڈبیک موصول ہوا جو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ فرماتے ہیں: آپ نے کل جو دوا مجھے دی تھی اُس کی دو خوراکیں کھانے کے 2 گھنٹہ بعد ہی میں نے اپنے آپ کو بہت پُرسکون محسوس کیا۔ ایک مستقل بے سکونی کی کیفیت، بے آرامی کا احساس اور اعصاب میں کھچاؤ تو ختم ہوا ہی اور ساتھ ہی دل کی دھڑکن میں بھی خاصی کمی ہو read more […]
اہمیت کے لحا ظ سے علامات کی درجہ بندی
میری کتاب لیکچرز آن ہومیوپیتھی سے اقتباس۔ حاضرین کرام: ایشین ہومیوپیتھک میڈیکل لیگ کے نیشنل سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ اور میں دیکھتا ہوں کہ کچھ ساتھی بہت دور دراز کا سفرطے کر کے محض حصول علم کے لئے یہاں پہنچے ہیں۔ان کے اس جذبے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ محترم ساتھیو: اگر غور کیا جائے تو کائنات کا سارا نظام اصول و قوانین کے تابع ہے۔ان کی پابندی میں فلاح ہے اور ان کی خلاف ورزی میں عذاب، ان کی پابندی میں صحت وسکون ہے اور ان کی خلاف ورزی میں بیماری اور بے سکونی۔ کائنات کے اس نظام کا فہم وادراک کرنے کے لئے علامات بڑا ذریعہ ہیں۔اور ہمارا سارا علم ان علامات کے گرد گھومتا ہے۔ہر لمحے ہمارا واسطہ ان علامات کے ساتھ پڑتا ہے۔ اور ہومیوپیتھی read more […]
ہومیوپیتھک علاج ناکام کیوں؛ غلطی کہاں ہوتی ہے؟ – حسین قیصرانی
آج سارا معاشرہ ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہی متاثر ہے جس میں بالعموم کیس ٹیکنگ گہرائی میں نہیں ہوا کرتی۔ مریض اپنے چند مسائل بیان کرتا ہے اور دوائیاں دے دی جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھی علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں صرف مرض یا تکلیفوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ مریض کا علاج ہوتا ہے۔ اِس میں کیس ٹیکنگ، مریض کے ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ مریض کو کوئی ایک دوا دی جاتی ہے جو اُس کی موجودہ کنڈیشن یا سطح کی دوا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف کا اصل سبب کیا ہے لیکن اس کی اوپر کی سطح یا بظاہر کوئی اَور تکلیف ہو سکتی ہے۔ جب تک اوپر کی تہہ کو صاف نہیں کریں گے کوئی ہومیوپیتھک دوائی کماحقہٗ کام نہیں کرے گی یا کم از کم مریض کی نظر میں دوا یا علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ read more […]
حیض، ماہواری، پیریڈز، مینسز کی تکالیف کا ہومیوپیتھک علاج ۔ حسین قیصرانی۔
یہ موضوع صرف بچیوں اور خواتین سے متعلق ہے۔ تفصیل میں جائے بغیر حیض یا ماہواری کے حوالہ سے عام طور پر پائی جانے والی تکالیف اور اُن سے متعلقہ ہومیوپیتھک دواؤں اور علاج کا ذکر کیا جائے گا۔ کسی ایک تکلیف کے ضمن میں کئی دواؤں کا نام درج ہے۔ ایک ماہر ڈاکٹر، مریضہ کی کیفیت اور دیگر علامات کو سامنے رکھ کر کوئی ایک دوا منتخب کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی کا اصول ایک وقت میں ایک ہی دوا کا ہے۔ دوا کی طاقت (پوٹینسی) اور خوراک کا تعین مریضہ کی تمام تفصیل سمجھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ہومیوپیتھک دوائیں نقصان نہیں پہنچاتیں۔ اِن کے سائیڈ افیکٹس صرف اِسی صورت میں نہیں ہیں کہ دوا کا انتخاب صحیح ہو، اُس کی پوٹینسی (طاقت) اور خوراک مریض (مرض) کی کیفیت کے موافق read more […]
ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ٹیلیفون مکالمہ
قارئینِ کرام: آئیے آپ کو ایک ٹیلیفونی گفتگو سنوائیں۔ بطور ہومیوپیتھک ڈاکٹر شاید آپ بھی کسی ایسے تجربے سے گذرے ہوں۔ امید ہے آپ لطف اندوز ہوں گے۔ اور دیکھیں کہ مریض کیا توقع کرتے ہیں اور ان کے دل میں ڈاکٹر کا کیا مقام ہے۔ مریض: آپ سے ایک مرض کے بارے میں پوچھنا ہے؟ ڈاکٹر: جی، بولیں۔ مجھے فسچولا ہے بہت علاج کرا چکا ہوں، کہیں سے آرام نہیں آ رہا، کیا آپ کے پاس اس کا علاج ہے؟ جی ہاں۔ کیا مکمل علاج ہو جائے گا؟ گارنٹی کے ساتھ؟ جی، امید ہے۔ کتنا ٹائم لگے گا؟ ٹائم کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا پھر بھی۔ دو ماہ، چار ماہ؟ جی، زیادہ بھی لگ سکتا ہے مجھے ٹھیک مدت بتائیے تب میں علاج کراؤں گا ٹھیک مدت تو بتانا مشکل ہو گا۔ ہر مریض کا وقت کم و بیش ہو سکتا ہے اچھا فیس کتنی ہو read more […]