The diagnosis of attention deficit and /or hyperactivity and other behavioral disorders is a real world epidemic. A great number of parents are looking for natural alternatives to pharmaceutical drugs usually prescribed to “fix” these problems. My experience of the past 30 years has led me to three conclusions (observations) I would like to share. There are various etiologies able to explain these types of problems. Homeopaths know a great number of remedies addressing the different causes (such as a very stimulating diet, emotional problems, dyslexia, vaccination side effects, etc.) Once the causes are eliminated, the symptoms disappear. Some amazing homeopathic remedies appear to be a possible solution in most of the cases of attention deficit and hyperactivity: Carcinosinum, Medorrhinum, Tuberculinum. Many diagnoses in cases of children disguise the actual deficits and anomalies to be attributed to “working conditions” and the educational system itself. The Attention Deficit able to capture it all! A mother has come for consultation with her 11 year old boy diagnosed by his teacher as having an attention read more […]
ہومیوپیتھک علاج گردوں کے مریضوں کے لئے مفید – حسین قیصرانی ۔
(جاری ہے) خراب گردوں کے مرض کو ایلوپیتھک ادویات اور طریقے Manage کیا جاتا ہے مگر اس کے علاج میں خاطرخواہ کامیابی ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی۔ ایسے مریضوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کی تو جاتی ہے مگر ان کی زندگی محض ان مشینوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کی کئی سالوں پر محیط تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ انسانی جسم میں پائی جانے والی ایسی دیرینہ اور خاموش بیماریاں جو سست رفتاری سے لیکن مسلسل بڑھ رہی ہوں، گردوں کو خراب کر دیتی ہیں- ایسی صورتحال کو Kidney Failure یا گردوں کی ناکامی کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب گردوں میں خون سے اِضافی مائع مادوں، معدنیات اور فالتو اَجزاء کو علیحدہ کر نے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی- اس خطرناک بیماری میں مبتلا افراد کے لئے Dialysis read more […]
ہومیوپیتھک طریقۂ علاج اور تشخیص میں سبب کی اہمیت (حسین قیصرانی)۔
ایک فلاسفر نے دوسرے فلاسفر سے پوچھا تم دنیا میں کیسے آئے؟ اُس نے جواب دیا ”اپنے ماں باپ کے سبب پیدا ہوا”۔ تمہارے ماں باپ کہاں سے آئے؟ “اپنے ماں باپ کےسبب”۔ ان کے ماں باپ کہاں سے آئے؟ “ان کے ماں باپ کےسبب”۔ تو پھر سب سے پہلے ماں باپ کہاں سے آئے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اِس مثال سے “سبب” (Cause / Reason) کی اہمیت کو اُجاگر کرنا مقصود ہے۔ ہماری اِس مادی دنیا میں “سبب” کے بغیر نہ کچھ پیدا ہوتا ہے؛ نہ رُونما ہوتا ہے اور نہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی کیفیت مریضوں اور اَمراض میں ہوتی ہے۔ ہر مرض چاہے وہ حاد (Acute) ہو یا مزمن (Chronic)، ہرعلامت چھوٹی ہو یا بڑی، خفیف ہو یا شدید؛ اُن کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے۔ یہ سبب یا وجہ خارجی (External) بھی ہو سکتی ہے اور read more […]
Homeopathic Treatment of an Underdeveloped Breast
Dr. Parinita Srivastava presents a case of an undeveloped breast in an eleven year old girl. Overview A girl aged 11 years came to me with her mother on 28th March 2015 with the complaint of one underdeveloped breast. Her right breast was completely flat and the left one was developing and measured 2 inches from base to nipple. She did not have any other complaint. Constitution of the patient Physical make-up – She is a tall, fair complexioned, thin girl. Thermals – Affected by extremes of temperature, more towards hot. Thirst – Not much thirst. Saliva dribbles from corner of the mouth during sleep. Perspiration – Scanty Stool – Normal Urine – Normal Menstruation – Has not started Food desire – Likes spicy food Mental make-up She is a shy girl. All the questions were answered by her mother during case taking. Her mother said that the girl cries very often at small issues but lifts up her mood easily. The girl is quite adamant, soft-spoken, introverted, good in studies. She read more […]
کان درد، کان بہنا، بہرہ پن، کان میں آوازیں، کھجلی اور خارش کا ہومیوپیتھک علاج (حسین قیصرانی)۔
کان سماعت کا آلہ ہے جس کے ذریعے ہم سنتے ہیں۔ اِس کی بیماریوں میں بیرونی اور اندرونی خارش، کان درد، کان کا بہنا اور بہرہ پن خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔ کان کا درد سردی لگ جانے سے، نزلے کے مسائل یا ورم پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی بچہ پیدائشی طور پر بہر ہ ہو تو وہ گونگا بھی ہوگا کیونکہ بچہ بڑوں کی آواز سنتا نہیں اس لئے بولنے سے معذور رہ جاتا ہے۔ اس سے آپ یہ اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء کس طرح ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ اِنسان کا جسم ایک مشین ہی کی طرح ہے جس کا ہر پرزہ ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ کسی ایک بھی پرزہ کے خراب ہونے سے ساری مشین متاثر ہو جاتی ہے۔ جس طرح مشین کے پرزے بدل لئے جاتے ہیں اسی طرح صحت مند انسان کے کچھ عضو دوسرے ضرورت مند انسانوں میں read more […]
Observing the patient after prescribing the homeopathic Remedy (Hussain Kaisrani)
After prescribing the remedy, the physician shall very carefully observe his patient in every respect; his general condition, aggravations and amelioration of symptoms, any change in the symptoms or in the patient himself, etc. The Observations After giving the medicine to the patient if the physician's observation is a prolonged aggravation and final decline of the patient, the case is incurable. The second observation is, the long aggravation, but final and slow improvement. It is a hopeful case with prolonged repetition of the same remedy at longer intervals. For many years you may go along with prolonged aggravations followed by amelioration untill an outward manifestation appears whereby the patient will attain final recovery. The third observation after administering the remedy is, quick aggravation, short and strong with rapid improvement of the patient. Whenever you find an aggravation comes quickly, is short, and has been more or less vigorous, then you will find improvement of the patient will be long, the structural changes many appear in the surface organ, and with the passage of time read more […]
پشاور، ولمار زوابے کی تقریب سے خطاب
پشاور، ولمار زوابے کی تقریب سے خطاب ۔July. 29, 2016 محترم کیپٹن، ڈاکٹر انعام الحق، M.D. Dr Hameed General Homoeo private Ltd محترم عامرحسین صاحب، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ MD Darul Adwiaat صاحب اور سامعین کرام! دوستو: آج ہم اعلیٰ مقصد کی خاطر جمع ہوئے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں ہر شخص بہت مصروف رہنے لگا ہے اور ہومیوپیتھک پریکٹس کے حوالے سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ ڈاکٹر حضرات کے پاس وقت کم ہوتا ہے لہذا سنگل ریمیڈی پریکٹس، کلاسیکل ہومیوپیتھی اور مریض کا طویل و عریض انٹرویو، یہ سب اگلے وقتوں کی باتیں ہیں ۔اب تو Digital دور ہے۔ Whatsaap ، سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ اب تو مریض کی بات سنو بیماری کے نام پر بنی بنائی دوا دو۔دوا ختم ہو گی تو مریض پھر آ جائے گا۔ یعنی چٹ منگنی پٹ بیاہ۔ حاضرینِ کرام: بظاہر read more […]
سر درد، وجوہات، علاج اور ہومیوپیتھک اَدویات (حسین قیصرانی)۔ Migraine
سر درد اِتنا عام ہے کہ اس کی دوا تجویز کرنا بذاتِ خود دردِ سر ہے۔ یہ سر ہی تو ہے جس میں مغز ہے جو تمام احساسات کا مرکز و محور ہے؛ اِس لئے سر درد کو معمولی یا عام مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ نظامِ ہاضمہ میں خرابی ہو تو سر درد۔ جگر میں خرابی ہو تو سر درد۔ نزلہ زکام یا بخار ہو تو سر درد۔ دل، گُردے، نسوانی اعضاء یعنی خواتین کے مسائل، غرضیکہ خرابی کہیں بھی ہو تو دردِ سر گویا سر چڑھ کر بولتا ہے۔ سر درد کا سبب معلوم نہ ہو تو اسے ٹھیک کرنے کیلئے ہومیوپیتھک دوا تجویز کرنا ناممکن ہے۔ مجھے فیس بک اور موبائل پر پیغامات موصول ہوتے ہیں یا مختلف محفلوں، ملاقاتوں یا سیمینارز میں میگرین یا سر درد کا علاج اور دوائی اکثر و بیشتر پوچھی جاتی ہے۔ ہومیوپیتھک طریقۂ علاج میں read more […]
ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی اُلجھنوں کا ہومیوپیتھک علاج — حسین قیصرانی
حادثے، چوری ڈکیتی، فراڈ، اَغواء، ظلم و تشدد، بم دھماکے، قتل و غارت، بیماریاں، اچانک اَموات، عُریانی، بے حیائی، شہوت پرستی اور اِس طرح کے دیگر واقعات ہم ہر روز اخبارات، ٹی وی، انٹرنیٹ اور فیس بک وغیرہ پر پڑھتے دیکھتےہیں۔ ان حالات و واقعات کے ماحول میں رہنے والوں کے ذہنوں میں خوف، لالچ، طیش، غصہ، مایوسی، رنج و غم، شہوت اور اِنتقام جیسے جذبات کا غلبہ رہتا ہے تو یہ ایک فطری امر ہے۔ اس لئے پاکستانی معاشرے میں دورانِ علاج ذہنی علامات کو اتنی اہمیت نہیں دی جا سکتی جتنی ترقی یافتہ معاشروں میں۔ مثلاً برطانیہ اور یورپ میں علاج معالجہ کے حوالہ سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہاں کے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اپنی زیادہ توجہ ذہنی اور نفسیاتی مسائل و علامات پر دیتے read more […]
علامات اور امراض جو کینسر کا پیش خیمہ ہو سکتے ہیں
کچھ عرصہ اُدھر کی بات ہے کہ ایک تحریر میں Pre-cancer stage کا ذکر ہوا تھا۔ اُسی تناظر میں چند قارئین نے پوچھا ہے کہ Pre-cancer stage کا پتہ کیسے چل سکتا ہے؟ اگرچہ حتمی طور پر یہ کہنا تو مشکل ہے کہ کیا خاص نشانیاں یا علامات کینسر کا پیش خیمہ ہیں تاہم ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کافی حد تک صحیح اندازہ لگا سکتا ہے۔ بے جا نہ ہوگا کہ اگر میں پہلے ہومیوپیتھک اور ایلوپیتھک تشخیص اور طریقۂ علاج میں ایک اہم ترین فرق نمایاں کر دوں۔ ایلوپیتھک طریقۂ علاج کا ماڈل ایسا ہے یا کم از کم اب ایسا بنا دیا گیا ہے کہ مرض کی تشخیص کے لئے ڈاکٹرز کا زیادہ تر انحصار لیبارٹری رپورٹس پر ہی ہوتا ہے۔ اِس لئے اُس نظام میں کسی مرض کا باقاعدہ علاج اُسی وقت ہی شروع ہو سکتا ہے کہ جب وہ مرض عملاً اپنی جگہ بنا لے یعنی read more […]