Blog Articles
صحت کی بات، ڈاکٹر ریکوگ کے ساتھ – ریڈیو گفتگو
ایلوپیتھک تشخیص بمقابلہ ہومیوپیتھک تشخیص
پشاور، ولمار زوابے کی تقریب سے خطاب
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور: خطاب
ہومیوپیتھک پریکٹس اور کیس ٹیکنگ – ڈاکٹر بنارس خان اعوان
میں آپ سے مخاطب ہوں، آپ جو ابھی اس فیلڈ میں کم تجربہ رکھتے یا ابھی سٹوڈنٹس ہیں اور عملی زندگی میں قدم رکھیں گے۔ آپ کے پاس ابھی انتخاب کا موقع ہے۔
میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں اگر آپ نے اس فیلڈ میں رہنا ہے، سنجیدہ پریکٹس کرنی ہے، نیک نامی کمانا ہے تو پھر آپ کو کچھ اصول و قوانین اپنانا ہوں گے، ان کی پابندی کرنا ہو گی۔ کیونکہ کائنات خود اصول و قوانین کی پابند ہے اور جو اس کے بنائے ہوئے اصول و قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے خسارے میں رہتا ہے۔ ہومیوپیتھی پریکٹس بھی آپ سے سنجیدگی اور دیانت داری کا تقاضا کرتی ہے۔ ہومیوپیتھی پریکٹس میں دو طریقے رائج ہیں۔ ایک سنگل ریمیڈی اور دوسرا کمبینیشن یا مکسوپیتھی (اسے جو بھی نام دیں)۔ انتخاب آپ کا ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت read more [...] ہومیوپیتھک تشخیص اور ایلوپیتھک تشخیص: ڈاکٹر بنارس خان اعوان
تشخیص یعنی بیماری کا پتا چلانا بالعموم ایلوپیتھک پس منظر میں بولا جاتا ہے جب کہ ہومیوپیتھی میں اس کا مطلب مختلف ہے۔
ایلوپیتھی میں تشخیص کا مطلب اس وائرس، بکٹیریا یا مائکروب وغیرہ کا کُھرا ڈھونڈنا ہوتا ہے جو (ان کے خیال میں) بیماری کا اصل سبب ہوتا ہے۔
اگر سراغ مل جائے تو اس کا توڑ کرنے والی انٹی بائیوٹک، انٹی وائرل یا انٹی الرجک دوا تجویز کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف لیب ٹیسٹس، ایکس رے، سی ٹی سکین اور بے شمار دیگر ٹیسٹ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اور اگر سراغ نہ ملے تو بیماری پر لاعلاج (یا پھر الرجی) کا لیبل لگا کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔
ان ٹیسٹ کے حق میں بہت کچھ کہا اور لکھا جاتا ہے اور یقیناً ان کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں، ہومیوپیتھی کو بھی نہیں۔
طبِ ایلوپیتھی read more [...]
Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger 