ہومیوپیتھک طریقہ علاج کی باقی طریقہ ہائے علاج سے ایک خاص انفرادیت یہ بھی ہے کہ اِس میں ہر مریض یا انسان کے مزاج کو سمجھ کر نہ صرف اُس کے موجودہ جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل کو حل کیا جاتا ہے بلکہ مستقبل میں درپیش ہو سکنے والے چیلنجز کے لئے بھی تیار کرتا ہے۔ منسلکہ مختصر ویڈیو کلپ میں آپ دیکھیں کہ شہریار بے وجہ روئے جا رہا ہے۔ جب اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیوں روتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کہ اُس کا دل کرتا ہے۔ جن بچوں کا رونے کو دل کرے یا وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر رونا شروع کر دیتے ہیں؛ وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ گھر میں ماں باپ یا بہن بھائی نے ذرا کچھ کہا نہیں اور اِن کے آنسو ٹپکے نہیں۔ اِسی طرح گلی محلے یا سکول میں ذرا سی اختلافی بات پر رونا شروع read more […]
پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کا ایک کامیاب کیس (ترجمہ: حسین قیصرانی، لاہور)۔
یہ کیس ہے ایک پچیس سالہ، بے حد محنتی اور مہذب نوجوان کا. مستقل محنت اور کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ تفصیلی کیس لینے سے مندرجہ تکالیف و علامات پائی گئیں: پیشانی میں بلکہ آنکھوں کے عین اوپر ہلکا درد کام کے بعد تھکان آنکھیں – جیسے پیچھے کھنچتی ہوں کمرے کی گرمی میں تکالیف کا بڑھ جانا جبکہ کھلی ہوا میں بہتری اپنے دفتر کی فائلوں اور چیزوں کو ترتیب میں نہ رکھنا دل، دماغ اور سوچوں میں اضطراب و پریشانی کسی معاملے کو نمٹانے میں مشکل دفتر میں جو کچھ خراب ہے وہ خراب ہی رکھنے کا مزاج مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی کام مکمل نہیں ہو پاتا بھوک اور پیاس میں واضح کمی منہ خشک اور زبان پر تہہ جمی ہوئی پلساٹیلا 200 ایک خوراک دی گئی۔ دو ماہ انتظار کے باوجود read more […]
پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی – خواتین کے عالمی دن پر کچھ یادیں
پیشِ خدمت ہے پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی صاحبہ کا مضمون — دولت کی پیدا کردہ بیماریاں۔ اُن کا یہ مضمون اگرچہ ہومیوپیتھی سے براہِ راست متعلق نہیں ہے تاہم اُن روَیوں کی نشان دہی ضرور کرتا ہے جو کسی انسان کی جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی بیماریوں میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ پاکستان کی صفِ اول کی گائناکالوجسٹ ہیں۔ اُن سے وقت لینے کے کے لئے مریضوں کو مہینہ بھر انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ روزانہ کم و بیش سو مریض تو دیکھتی ہی رہی ہیں۔ اپنی پریکٹس کے دوران وہ غریبوں اور مستحق افراد کے خصوصی وقت نکالتی رہیں اور کئی بار تو دوائیاں بھی خود ہی فراہم کرنے کا انتظام کرتیں۔ انہوں نے ہر طبقہ زندگی کے انسانوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور مَیں نے اُنہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے بہت read more […]
معدہ کی تکالیف – ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج: حسین قیصرانی
معدہ کی عام تکالیف کی وجہ کھانے میں بدپرہیزی ہوتی ہے۔ اگر یہ وجہ نہ ہو تو پھر موروثی مزاج کا عمل دخل ہوتا ہے جس کے لئے معدہ کا نہیں؛ اُس مزاج کا علاج کرنا ہوتا ہے۔ مزاج کے علاج سے معدہ اور اُس کی ساری تکلیفیں بھی ٹھیک ہو جایا کرتی ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ غذا کی بے احتیاطی اور بے قاعدگی کی وجہ سے معدہ میں اکثر تیزابیت پیدا ہوتی ہے۔ غذا میں خمیر سا اٹھتا ہے اور ہوا پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ ہوا پیدا ہونے کا سلسلہ آنتوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ غذا کی حالت اور کیفیت خراب ہو جاتی ہے۔ پیٹ میں اپھارہ پیدا ہوجاتا ہے۔ پاخانہ عام طور پر غیر منہضم خارج ہوتا ہے۔ بعض اوقات قبض کی شکایت ہو جاتی ہے۔ تیزابیت ہی کی وجہ سے ریح کے درد، گردوں، مثانہ اور پتہ میں پتھری، معدہ میں زخم یا آنتوں میں read more […]
دولت کی پیدا کردہ بیماریاں – پروفیسر ڈاکٹر زاہدہ درانی
غریبی اپنے ساتھ جو مصیبتیں لاتی ہے اس کا اندازہ ہر قلبِ حساس بآسانی کرسکتا ہے۔ لیکن ایک غلط معاشرہ میں دولت کی فراوانی جس قسم کی تباہیاں لاتی ہے، اس کا تصور عام طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ ان تباہیوں کا ایک گوشہ وہ ہے جس کا اندازہ مجھے بہ حیثیت ایک ڈاکٹر کے ہوا۔ اور انہی کی ایک خفیف سی جھلک میں اس وقت آپ کو دکھانا چاہتی ہوں۔ جہاں تک بیماری اور اس کے علاج کا تعلق ہے؛ غریبی کی پیدا کردہ مصیبت ایک ہی نوعیت کی ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ایک غریب بیوہ اپنی اکلوتی بیٹی کو لے کر آتی ہے جو ایک خطرناک اور مہلک بیماری کا شکار ہے۔ میں اسے دوائی لکھ کر دیتی ہوں۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ حتیٰ الامکان دوائی سستی ہو۔ وہ نسخہ ہاتھ میں لے کر پوچھتی ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ یہ دوائی بازار سے کتنی قیمت read more […]
خواتین کی شرمگاہ میں خارش کا ہومیوپیتھک علاج – مرکیورس کیس (پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان)۔
خارش اور کھجلی بہت ہی تکلیف دہ کیفیت و علامت ہے جو کہ مریض کے لئے جسمانی کے ساتھ ساتھ نفسیاتی کرب اور تشویش کا باعث بنتی ہے۔ ذرا تصور میں لائیے کہ اگر یہ خارش کسی خاتون کے پرائیویٹ اعضاء یعنی شرمگاہ میں ہو تو کس قدر اذیت اور پشیمانی کا سامان اپنے اندر رکھتی ہو گی؛ اُس عفت مآب کو یہ عارضہ دکھ، شرمندگی اور مستقل بے چینی میں مبتلا کرتا رہتا ہوگا۔ یہ کیس ایسے ہی مسئلہ کا شکار ایک محترمہ کا ہے جس کی عمر 25 سال تھی۔ اُس کی شرمگاہ کے متاثرہ حصوں پر جب پیشاپ لگتا تھا تو بے پناہ خارش اور تکلیف ہوتی تھی۔ پانی سے دھونے کے بعد تکلیف کی شدت، البتہ کم ہو جاتی تھی۔ کیس کی تفصیل لینے پر اندازہ ہوا کہ تکلیف کے دو پہلو نمایاں تھے۔ اول یہ کہ رات ہوتے ہی خارش بڑھ جاتی تھی اور دوم یہ read more […]
ایک آن لائن کلائنٹ کے جذبات – ہومیوپیتھک علاج
سر جی! مَیں کافی بہتر ہو گیا ہوں۔ آپ نے بہت محنت کی ہے مگر ابھی کچھ اندر چیزیں ہیں جو تنگ کرتی ہیں۔ ان شاء اللہ وہ بھی بہتر ہو جائیں گی ۔۔۔۔ پھر داوئی کو بھول جائیں گے ۔۔۔ وقت کے حساب سے لیں گے ۔۔۔۔۔۔ سر جی آپ ایک اچھے ڈاکٹر اور انسان ھو ۔۔۔۔۔ خیال رکھنے والے ۔۔۔ اللہ اجر دے آپ کو اب آپ نے میری طرح میری بیگم کو بہتر کرنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کا خیال کریں گے ——————————————— ذہنی اور نفسیاتی مسائل میں ہومیوپیتھک علاج کے اثرات – ایک مریض کے تاثرات http://homeopathydoctor.pk/%D8%B0%DB%81%D9%86%DB%8C-%D9%86%D9%81%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC/ read more […]
بیماری اور جذبات میں کیا تعلق ہے – میرا نقطہ نظر (حسین قیصرانی)۔
قدرت نے غیر ضروری یا زائد مواد کے اخراج کے کئی راستے رکھے ہیں – پسینہ، گیس، پیشاپ، پاخانہ، جِلد کے اُبھار وغیرہ۔ منفی جذبات – غم و غصہ، نفرت اور صدمہ وغیرہ – کے اخراج کا کوئی مستقل اور آسان راستہ نہیں ہے۔ اِس لئے اِن کو توازن میں رکھنے کی ہدایات اور راہنمائی پر عمل کرنا ضروری ہے۔ آجکل کے تیز رفتار اور مادی دَور میں جذبات میں توازن قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔ یاد رکھئے! جذبات کا اثر دل پر پڑتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے ان نقصان دہ اثرات کو نسبتاً کم اہم اعضاء کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ بلڈپریشر، شوگر، سر درد، نیند اور معدے کی خرابی وغیرہ دراصل جذبات کے توازن کی خرابی ہی کا اظہار ہیں۔ جب تک اصل تکلیف یعنی جذباتی مسائل کا علاج نہیں ہوتا، صحت کی خرابی بڑھتی ہی چلی read more […]
بچوں میں شدید ضد، غصہ اور تنگ مزاجی ۔ ہومیوپیتھک علاج – ڈاکٹر بنارس خان اعوان
اللہ رب العزت نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، نہ تو وہ مجبور محض ہے اور نہ ہی مختار کل۔ اس لئے فخر کا باعث حسب نسب نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ لیکن جہاں تک بات ہے بچوں میں ذہنی نزاع کی تو وہ عام انسانی معاملات سے ذرا ہٹ کے ہے، بچوں میں ذہنی امراض ماحول کے علاوہ موروثی بھی ہو سکتے ہیں۔ نومولود بچوں اور بڑے بچوں کے ذہنی امراض میں فرق ہے۔ ایک معصوم بچہ اپنی جسمانی تکلیف کو بتا نہیں سکتا، لیکن اس کی حرکات و سکنات اور جسمانی علامات سے پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ جدید تحقیقات کے کے مطابق بچہ ماں کے پیٹ میں ہی خوشی و غم، مالیاتی تغیر اور بیرونی معاملات کو محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔نومولود بچوں پر ذہنی اثرات کو ان کے چڑچڑاپن اور بے چینی اور بے خوابی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ نومولود بچوں read more […]
پِتے کا درد اور پتے کی پتھری – کامیاب ہومیوپیتھک علاج پر فیڈبیک – محمد امتیاز لاہور
میرا مرض اور علاج دونوں بہت تکلیف دہ تھے؛ جسمانی اور جذباتی دونوں حساب سے۔ جب میں (ERCP) کے مراحل سے گزرا تو وہ کربناک لمحات تھے۔ میں کتنی بار ہسپتال گیا، بے شمار ٹیسٹ کروائے، کئی بار الٹراساؤنڈ بھی اور مہنگی دوائیاں بھی کھائیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ کئی بار کچھ بہتری کے آثار نظر آئے مگر وہ صرف چند دنوں تک ہی محدود رہے۔ آئے دن کے میڈیکل ٹیسٹ، رپورٹس اور دیگر تشخیصی مراحل سے مَیں بہت بیزار اور صحت سے مکمل مایوس ہو چکا تھا۔ تین دن بعد میری ایک اَور (ERCP) طے تھی لیکن یہ تین دن میرے لئے بہت فکرمندی کے تھے۔ میں نے اپنا معاملہ حسین قیصرانی صاحب سے ڈسکس کیا۔ انہوں نے ہر بات مکمل توجہ سے نہ صرف سنی بلکہ لکھی بھی۔ تفصیلی گفتگو کے بعد انہوں نے مجھے ایک ہومیوپیتھک دوا read more […]