Homeopathic Awareness
ہومیوپیتھک دوائی سے کوئی افاقہ یا فائدہ کیوں نہیں ہوتا اور غلطی کہاں ہوتی ہے؟ (حسین قیصرانی)۔
رنگ گورا کرنے اور چہرہ نکھارنے والے انجیکشن، کریمیں اور لیزر تھراپی علاج – حقائق کیا ہیں؟
An innovative proposal for scientific alternative medical journals – (George Vithoulkas)
Contemporary homeopaths all over the world are witnesses to one of the strangest things to have ever occurred in our complex modern scientific society, namely, that our most prestigious homeopathic journals with an “impact factor” rarely, if ever, publish studies on cases treated and cured with homeopathy. Why is this so? [1]
Let us examine this question. It is a well-known fact in the international homeopathy community that every day, there are literally thousands of chronic sufferers treated successfully all over the world through the intervention of homeopathic remedies. All homeopaths have observed the occasional “miraculous cures” occurring in their own practice and in those of their colleagues. However, despite these remarkable “cures”, it is very strange that hardly any of these evidential cases appear in our homeopathy journals.
Homeopaths and patients know that millions of successful treatments occur all the time and all over the world. However, it appears that the editors of relevant journals are blissfully unaware of this fact. Their screening protocol is so effective that case studies are unable to pass even the most lackadaisical of peer reviewers. These read more [...] برائٹا کارب – جارج وتھالکس کی کتاب “حسد اور تشویش” کا اردو ترجمہ (ڈاکٹر بنارس خان اعوان)۔
ڈاکٹر بنارس خان اعوان: (Aconite) ایکونائٹ
سوال نامہ ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ برائے مزمن یعنی پرانے اور ضدی امراض
ڈر، خوف، فوبیاز اور الرجی ۔ ایک نقطہ نظر (حسین قیصرانی)۔
نیند کی ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانی۔
چند مخصوص تکالیف کے علاوہ جو سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نیند کی ہومیوپیتھک دوا تجویز کر دیں۔ میرا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی میں مرض کا نہیں مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہر مریض کے نیند اُچاٹ ہونے کے اسباب اپنے ہوتے ہیں۔ اگر ہم وجہ کو کماحقہٗ سمجھ سکیں تو ہی اِس مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ کو سمجھنے میں بعض اوقات ایک گھنٹہ کا انٹرویو بھی کافی نہیں ہوتا۔ یہاں یہ بات بہت دلچسپ ہے کہ زیادہ پڑھے لکھے اور گوگل کے مُرید خواتین و حضرات میڈیکل کی اِصطلاحات کے بوجھ تلے اتنا دبے ہوتے ہیں کہ پہلی نشست عام طور پر انہیں اِس بوجھ سے آزاد کرنے میں ہی لگ جاتی ہے۔
ہومیوپیتھی میں کوئی دوا بھی نیند کے لئے مختص نہیں ہے۔ جن ڈاکٹرز، سٹورز اور کمپنی read more [...] چہرے کے مسائل اور ہومیوپیتھک علاج ۔ حسین قیصرانی۔ (Face)
چہرہ باطن یعنی اندر کی تصویر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چہرے کی تکالیف عام طور پر کسی اندر کے مسئلے کا اظہار ہوتی ہیں۔ چہرے کی اہمیت کا اندازہ اگرچہ ہم سب کو ہے لیکن اِس کے باوجود ہر قسم کے ٹوٹکے، نسخے، اشتہاری دوائیں اور کریمیں ہم اپنے چہرے پر ہی آزماتے اور اکثر اوقات اُس کے نتیجے بھگتتے ہیں۔ صحت اور علاج کے حوالہ سے چہرے کی کسی تکلیف یا بیماری کو کچھ اوپر لگا کر مستقل حل کرنا بہت مشکل ہے۔ ہاں! وقتی طور پر اُسے چُھپایا یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ مکمل علاج اور مسئلے کا مستقل حل یہ ہے کہ اُس اندرونی تکلیف کو تلاش اور سمجھ کر علاج کیا جائے جو چہرے پر اپنا اثر ظاہر کر رہی ہے۔ اندرونی صحت کو ٹھیک کر دینے سے اکثر اوقات چہرے کے مسائل از خود حل ہو جاتے ہیں۔
خواتین میں چہرے کے اکثر مسائل read more [...] لیکیوریا کا ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی۔ (leukorrhea)
لیکوریا یا سیلانِ الرِحم خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی قسم کی تکلیفوں کا نتیجہ یا اظہار ہے۔ یہ کئی نئے ہونے والے ورم اور بیماریوں کی وجوہات ہوسکتی ہے۔
لیکوریا خواتین کے پوشیدہ عضو سے بہنے والا سادہ پانی کی طرح کا، خراش دار، بد بو کے ساتھ، لیس دار، کچے انڈے کی سفیدی کی طرح، کریم کے رنگ کا گاڑھا یا پیلے رنگ کا مادہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ڈسچارج صحت کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ہے لیکن خارج ہونے والے مادہ میں تبدیلیوں کو روکنے کے لئے توجہ کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے۔
لیکوریا کا اخراج اندرونی تکالیف کی نشاندہی کرتا ہے اِس لئے کسی دوا سے (چاہے وہ ایلوپیتھک ہو، گھریلو ٹوٹکا، حکمت یا ہومیوپیتھک) صرف لیکوریا کا روک دینا مفید نہیں ہو سکتا۔ اولاً تو وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ شروع read more [...]
Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger 